یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنے ہی گھر سے کبھی کبھی بور بھی ہو جاتے ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ گھر بھی ”میک اوور“ چاہتا
ہے
یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنے ہی گھر سے کبھی کبھی بور بھی ہو جاتے ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ گھر بھی ”میک اوور“ چاہتا ہے۔گھر کی آڑ میں اہم اپنی خوشیاں،مسرتیں اور دلچسپیاں بھی ڈھونڈتے ہیں اور کیوں نہ ہو گھر ہمارا سائبان ہوتا ہے۔یہاں ہم اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتوں،مختلف تاثرات اور اسٹائل کا تجربہ کر سکتے ہیں۔اسی لئے گھر کو مکینوں کی شخصیت کا عکس کہا جاتا ہے۔
دیواروں کو پُرکشش رنگ دیجئے۔
فرنیچر اور دیوار رنگ کو یکساں نہیں ہونا چاہئے بلکہ متضاد ہو تو بہتر ہے،یکساں رنگ کا ہو گا تو کمرہ دب جائے گا۔
اگر آپ کی مرکزی نشست گاہ اور اس میں دھوپ کا گزر زیادہ نہ ہو تو آپ کو ایک سے زائد لیمپس کی ضرورت پڑے گی۔
اگر آپ کے کمروں میں دھوپ زیادہ آتی ہے تو دیوار کا رنگ مدھم کے بجائے گہرا اور مدھم ملا جلا رکھنا بہتر ہو گا۔یا پھر ایک دیوار کو فوکل پوائنٹ جانتے ہوئے میرون یا نیوی بلیو بھی رکھ سکتے ہیں۔
دیواروں کے رنگ پہ کاسنی،نیلے،بنفشی،گلابی،ہلکے ارغوانی اور فیروزی کے ساتھ ساتھ مدھم ہرے کا امتزاج کیا جا سکتا ہے۔ہلکے رنگوں میں کشادگی کا احساس ہوتا ہے اور یہ رنگ کمرے کو زیادہ جاذب نظر بناتے ہیں اور روشن رہتے ہیں مگر تمام دیواریں ایک ہی رنگ میں رنگنے کا اب رجحان ختم ہو چکا ہے۔مرکزی دیوار کا رنگ دودھیا ہی ہو تو بہتر ہے۔
اگر آپ کے کمرے میں پردوں سے بھی دھوپ چھن چھن کر آتی ہے تو یہ ایک نعمت ہے اسے روکنے کی تدبیر سے زیادہ اس سے مستفیض ہونے کے گُر سیکھنے چاہئیں۔
دیواروں کو پُرکشش رنگ دیجئے۔
فرنیچر اور دیوار رنگ کو یکساں نہیں ہونا چاہئے بلکہ متضاد ہو تو بہتر ہے،یکساں رنگ کا ہو گا تو کمرہ دب جائے گا۔
اگر آپ کی مرکزی نشست گاہ اور اس میں دھوپ کا گزر زیادہ نہ ہو تو آپ کو ایک سے زائد لیمپس کی ضرورت پڑے گی۔
اگر آپ کے کمروں میں دھوپ زیادہ آتی ہے تو دیوار کا رنگ مدھم کے بجائے گہرا اور مدھم ملا جلا رکھنا بہتر ہو گا۔
دیواروں کے رنگ پہ کاسنی،نیلے،بنفشی،گلابی،ہلکے ارغوانی اور فیروزی کے ساتھ ساتھ مدھم ہرے کا امتزاج کیا جا سکتا ہے۔ہلکے رنگوں میں کشادگی کا احساس ہوتا ہے اور یہ رنگ کمرے کو زیادہ جاذب نظر بناتے ہیں اور روشن رہتے ہیں مگر تمام دیواریں ایک ہی رنگ میں رنگنے کا اب رجحان ختم ہو چکا ہے۔مرکزی دیوار کا رنگ دودھیا ہی ہو تو بہتر ہے۔
اگر آپ کے کمرے میں پردوں سے بھی دھوپ چھن چھن کر آتی ہے تو یہ ایک نعمت ہے اسے روکنے کی تدبیر سے زیادہ اس سے مستفیض ہونے کے گُر سیکھنے چاہئیں۔

0 Comments