جب بچہ اشاروں سے اپنی کوئی ضرورت بتائے تو آپ ناسمجھ بن جائیں اس طرح وہ ٹو ٹے پھوٹے لفظوں میں کچھ بولنے کی کوشش کرے گاتاکہ آپ کواپنی بات سمجھا سکے۔ سائنسی علوم کے مطابق اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ لڑکیاں لڑکو ں کی نسبت جلد بولناشروع کردیتی ہیں بچوں کے دیرے سے یاجلد بولنے میں صرف ان کے اردگرد کا ماحول ہی اثراندازہوسکتا ہے کیونکہ قدرتی طور پر لڑکے اور لڑکی کی ذہنی نشوونما یکساں ہوتی ہے۔
عموما پہلا بچہ گھر کے سبھی افراد کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے اوراسے لاڈپیار کے ساتھ توجہ بھی زیادہ ملتی ہے۔ ممکن ہے اسی لئے آپ کی بیٹی جلدی باتیں کرنا سیکھ گئی ہو جبکہ بیٹے کو اس طر ح توجہ نہ ملی ہو۔ دراصل دوسرے بچے کی پرورش ایک طے شدہ طریق کار کے تحت ہوتی ہے گھر کے سبھی لوگ ایک خاص معمول کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے بھی دوسرے بچے کوزیادہ توجہ نہیں ملتی۔
اس کے علاوہ اگر دوسرے بچے میں وقفہ کم ہوتو بھی ایک بچے کو مکمل توجہ نہیں ملتی۔ اگر فیملی چھوٹی ہو ماں اور باپ دونوں ہی جاب کرتے ہوں، بچے کی مکمل دیکھ بھال دادا‘دادی یا نانا‘ نانی کرتے ہوں یا پھر بچوں کی پرورش ڈے کیئر سنٹر(Day care centre) میں ہو تو بھی بچے دیر سے باتیں کرنا سیکھتے ہیں۔ جن بچوں کا وزن عمر سے زیادہ ہو ‘ وہ بھی ذہنی طور پر ست ہی سمجھے جاتے ہیں اس لئے آپ اپنے بیٹے کی خوراک میں بھی توازن رکھیں اوراسے ایسی خوراک نہ دیں جس سے اس کا وزن بڑھنے کا اندیشہ ہو۔

0 Comments