Subscribe Us

ساگ کھائیں سردی بھگائیں -

سرسوں کے ساگ کے بے شمار فائدے

سردی اور ساگ کا دامن چولی کا ساتھ چلا آ رہا ہے۔اگرچہ ہمیں ساگ کی تاریخ کا تو حتمی پتہ نہیں تاہم سردی کی شروعات بھی ساگ سے اور اختتام بھی ساگ پر ہی ہوتا ہے۔دھند میں چھپی سردی کی صبحیں اور یخ بستگی میں لپٹی شامیں اس وقت اور بھی دلکش اور دلربا ہو جاتی ہیں جب سرسوں کے ساگ میں دیسی گھی ملا کر مکئی یا باجرے کی روٹی پہ رکھ کر کھایا جائے۔

سرسوں کے ساگ سے لے کر تیل تک بے شمار فوائد ہیں جو انسانی صحت کو بحال رکھتے اور پائیدار بناتے ہیں۔
طبی لحاظ سے ساگ ثقیل،دیر ہضم اور ریح پیدا کرنے والی خوراک ہے۔اعصاب و دماغ کو طاقت دیتا ہے۔خون پیدا کرتا اور عام جسمانی کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے۔یہ بلغمی مواد کی افزائش کا خاتمہ کرتا ہے۔

گرم اور خشک مزاج کے حامل افراد کے لئے ساگ نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے جبکہ اس کے برعکس بلغمی اور سرد مزاج والے ساگ سے کئی بدنی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ساگ بناتے وقت اس میں شامل اجزاء پالک،میتھی،میتھرے،باتھوگا،جر کے پتے،سبز دھنیا ادرک لہسن اور دوسرے مصالحہ جات اسے ایک طاقتور غذائی مرکب بنا دیتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے بے بہار فوائد کا ذریعہ بنتا ہے۔ساگ قبض کشا اور پیشاب آور خواص کا حامل ہوتا ہے۔ساگ سردی کو دور بھگاتا ہے اور سردی کے ٹھنڈے ٹھار موسم میں بھی گرمی کا احساس بیدار رکھتا ہے۔

دیہات میں ساگ بطور خوراک وافر مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ شہروں میں بسنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کو ساگ بطور سوغات تحفے میں پیش کیا جانا اہل پنجاب کی روایت ہے۔سرسوں کو بطور چارہ مویشیوں کو بھی ڈالا جاتا ہے۔سرسوں سے تیل نکالتے وقت سرسوں کا پھوک جسے کھل بھی کہا جاتا ہے،دودھ دینے والے مویشی گائے اور بھینس کو دودھ کی افزائش کے لئے بطور ونڈا کھلایا جاتا ہے۔سردی سرسوں اور ساگ خدا کی ایک بے مثال نعمتیں ہیں۔سردی کے موسم میں انواع و اقسام کے پکوان کھا کر لطف اٹھائیے،سرسوں اور ساگ کے ہوتے ہوئے سردی کی کیا مجال ہے کہ آپ کے قریب بھی بھٹک سکے۔

Post a Comment

0 Comments