موسم گرما میں گھروں کی آرائش کا متوازن تصور
Zen اصل میں مہایان بدھ مت کا مخصوص مسلک ہے جس میں مراقبے اور وجدان پر زور دیا جاتا ہے۔گھریلو اور دفتری آرائش کے ضمن میں یہ متبادل طریقہ ہائے علاج بھی ہے جس میں رنگوں،روشنیوں اور نباتات کے ساتھ ماحولیاتی توانائی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
رنگوں کی دنیا کا طلسم
پُرسکون اور روحانی طور پر مطمئن اور بوجھل پن دور کرنے کے لئے اپنے گرد و نواح میں دھیمے اور ہلکے رنگوں کا استعمال کرنا بہتر رہے گا۔شدید گرمی کے موسم میں موجود حرارت اور ہیجان دور کرنے کے لئے گھروں اور دفاتر کے اندرونی ماحول کو توانائی سے بھرپور اور معتدل تاثر کے ساتھ ترتیب دینا ہو گا۔آپ خود تجربہ کر کے دیکھیں ہلکا سرمئی،دودھیا سفید،خاکی یہ تینوں رنگ آپ کے مزاج کے تناؤ کو دور کر دیتے ہیں۔
سینتھیٹک کپڑے کو الوداع کہہ دیں
آج کل خوش قسمتی سے نیچرل فائبر سے بنے Rugs اور غالیچے دستیاب ہیں۔سوتی کپڑے کی پسندیدگی اور مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔یہ ایک اچھا شگون ہے۔اگر سوتی کپڑے میں معیاری ڈیزائن نہ مل رہا ہو تو لینن اور سوتی ملا ریشمی کپڑا بھی بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔سینتھیٹک کارپٹ دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن یہ غیر قدرتی عمل کے ذریعے بنتا ہے لہٰذا اسے خیرباد کہہ دیں۔
قدرتی روشنی کا بھرپور استعمال
ہمارے گھروں کے کمرے میں ناموزوں روشنی ہی ایسا عنصر ہوتا ہے جو تکلیف کا باعث بنتا ہے اور طبیعت پر بوجھل پن کا تاثر پیش کرتا ہے۔ہم گرمیوں میں دھوپ سے ڈرنے لگتے ہیں۔ڈرنے کے بجائے دن میں کمروں کی صفائی ستھرائی کے موقع پر کھڑکیاں دروازے کھول کر دھوپ کو اندر آنے دیں۔سورج کی قدرتی روشنی کے آگے ہر بلب اور انرجی سیور ہیچ دکھائی دیتا ہے شام کو جب مصنوعی روشنی ہماری ضرورت بن جاتی ہے تو اسے Soft رکھئے بے حد شدت آمیز نہ بنائیے۔
سادہ فرنیچر
بہت مرصع،پیچیدہ اور پرتکلف آرائش والا فرنیچر قیمتی تو ہو سکتا ہے مگر آپ کے لئے معتدل احساس اور متوازن کیفیت نہیں دیتا۔کمرہ سامان سے اٹا رہتا ہے۔سادہ فرنیچر خریدیئے مگر کبھی بھی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کیجئے اگر شاہانہ طرز زندگی سا فرنیچر لے لیں گی تو کمرہ بھرا پرا لگے گا۔کمرے میں چلنے پھرنے کی جگہ باقی رہنی چاہئے اسے بھی نیچرل کلر تھیم سے سجانا معتدل طرز آرائش کا تصور پیش کرے گا۔
ہلکی پھلکی آرائشی اشیاء
موسم سرما میں آپ تیز چمکیلے اور گہرے رنگوں کی تصاویر اور سجاوٹی اشیاء لاؤنج یا ڈرائننگ روم میں رکھتی ہیں تو بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا لیکن یہی اشیاء گرمیوں میں نگاہوں کو چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں لہٰذا ہر تیز رنگ کی چیز کو کمرے سے ہٹا دیں۔متضاد رنگوں کی آرائش بھی نہ کریں یہ بھی بہار کے موسم تک خوشگوار تاثر دے گی بعد میں بوجھل پن کے احساس کو تقویت دیتی ہے۔
گھر میں پودے ضرور رکھ لیں
یہ گزارش اس لئے بھی کی جا رہی ہے کیونکہ پُرسکون کیفیت،مثبت طرز فکر،بے قراری سے نجات اور اضطراب سے دور رہنے کے لئے اپنے ارد گرد موجود قدرتی نعمتوں سے استفادہ کرنا بہت ضروری ہے۔قدرت کی یہ تخلیق درختوں،پودوں اور پھولوں کی شکل میں ہمارے لئے سکون آشنا زندگی عطا کر سکتی ہے لہٰذا ہر کمرے میں کوئی ایک آدھ چھوٹا یا بڑا پودا ضرور رکھئے۔سایہ دار پودے ترتیب دینا ایسا مشکل کام نہیں۔آپ بھی ایسا ہی ایک بونسائی اپنے لاؤنج یا سونے کے کمرے کا حصہ بنا لیجئے۔ایلو ویرا کا پودا بھی پُرسکون نیند کا محرک ہو سکتا ہے۔
سونے کے کمرے میں DVD نہ رکھیں
دن بھر کے تھکے ماندے لوگ سونے کے کمروں میں پرانے کپڑے،اخبارات،رسالے یا DVD وغیرہ رکھے رہتے ہیں اور تو اور ٹی وی بند کیا مگر کنکشن نہیں نکالتے،موڈیم کو Off نہیں کرتے،کھڑکیاں بند کر کے پنکھا چلا کر سو جاتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی سے مرصع ماحول ہوتا ہے۔جو لوگ رات میں کم از کم سات یا آٹھ گھنٹے کی نیند نہیں لیتے ان کے دل کی صحت بہتر نہیں رہتی۔غذائی عادات میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے اور ہر قسم کے Clutter سے پاک کمرے میں سونا توانا بنا دیتا ہے۔بستر کی چادر،اوڑھنے والی چادر یا لحاف آرگینک کاٹن سے بنا ہو تو بہتر ہے۔سونے کے کمرے میں قد آدم آئینہ نہ لگوائیے یہ روشنی کا انعکاس کر کے آنکھوں پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
رنگوں کی دنیا کا طلسم
پُرسکون اور روحانی طور پر مطمئن اور بوجھل پن دور کرنے کے لئے اپنے گرد و نواح میں دھیمے اور ہلکے رنگوں کا استعمال کرنا بہتر رہے گا۔شدید گرمی کے موسم میں موجود حرارت اور ہیجان دور کرنے کے لئے گھروں اور دفاتر کے اندرونی ماحول کو توانائی سے بھرپور اور معتدل تاثر کے ساتھ ترتیب دینا ہو گا۔آپ خود تجربہ کر کے دیکھیں ہلکا سرمئی،دودھیا سفید،خاکی یہ تینوں رنگ آپ کے مزاج کے تناؤ کو دور کر دیتے ہیں۔
اگر آپ دیواروں کا رنگ سفیدی مائل رکھ رہی ہیں تو صوفوں اور پردوں کا رنگ مدھم سا خاکی ہو تو اچھا تاثر دے گا۔
سینتھیٹک کپڑے کو الوداع کہہ دیں
آج کل خوش قسمتی سے نیچرل فائبر سے بنے Rugs اور غالیچے دستیاب ہیں۔سوتی کپڑے کی پسندیدگی اور مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔یہ ایک اچھا شگون ہے۔اگر سوتی کپڑے میں معیاری ڈیزائن نہ مل رہا ہو تو لینن اور سوتی ملا ریشمی کپڑا بھی بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔سینتھیٹک کارپٹ دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن یہ غیر قدرتی عمل کے ذریعے بنتا ہے لہٰذا اسے خیرباد کہہ دیں۔
قدرتی روشنی کا بھرپور استعمال
ہمارے گھروں کے کمرے میں ناموزوں روشنی ہی ایسا عنصر ہوتا ہے جو تکلیف کا باعث بنتا ہے اور طبیعت پر بوجھل پن کا تاثر پیش کرتا ہے۔ہم گرمیوں میں دھوپ سے ڈرنے لگتے ہیں۔ڈرنے کے بجائے دن میں کمروں کی صفائی ستھرائی کے موقع پر کھڑکیاں دروازے کھول کر دھوپ کو اندر آنے دیں۔سورج کی قدرتی روشنی کے آگے ہر بلب اور انرجی سیور ہیچ دکھائی دیتا ہے شام کو جب مصنوعی روشنی ہماری ضرورت بن جاتی ہے تو اسے Soft رکھئے بے حد شدت آمیز نہ بنائیے۔
سادہ فرنیچر
بہت مرصع،پیچیدہ اور پرتکلف آرائش والا فرنیچر قیمتی تو ہو سکتا ہے مگر آپ کے لئے معتدل احساس اور متوازن کیفیت نہیں دیتا۔کمرہ سامان سے اٹا رہتا ہے۔سادہ فرنیچر خریدیئے مگر کبھی بھی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کیجئے اگر شاہانہ طرز زندگی سا فرنیچر لے لیں گی تو کمرہ بھرا پرا لگے گا۔کمرے میں چلنے پھرنے کی جگہ باقی رہنی چاہئے اسے بھی نیچرل کلر تھیم سے سجانا معتدل طرز آرائش کا تصور پیش کرے گا۔
ہلکی پھلکی آرائشی اشیاء
موسم سرما میں آپ تیز چمکیلے اور گہرے رنگوں کی تصاویر اور سجاوٹی اشیاء لاؤنج یا ڈرائننگ روم میں رکھتی ہیں تو بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا لیکن یہی اشیاء گرمیوں میں نگاہوں کو چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں لہٰذا ہر تیز رنگ کی چیز کو کمرے سے ہٹا دیں۔متضاد رنگوں کی آرائش بھی نہ کریں یہ بھی بہار کے موسم تک خوشگوار تاثر دے گی بعد میں بوجھل پن کے احساس کو تقویت دیتی ہے۔
گھر میں پودے ضرور رکھ لیں
یہ گزارش اس لئے بھی کی جا رہی ہے کیونکہ پُرسکون کیفیت،مثبت طرز فکر،بے قراری سے نجات اور اضطراب سے دور رہنے کے لئے اپنے ارد گرد موجود قدرتی نعمتوں سے استفادہ کرنا بہت ضروری ہے۔قدرت کی یہ تخلیق درختوں،پودوں اور پھولوں کی شکل میں ہمارے لئے سکون آشنا زندگی عطا کر سکتی ہے لہٰذا ہر کمرے میں کوئی ایک آدھ چھوٹا یا بڑا پودا ضرور رکھئے۔سایہ دار پودے ترتیب دینا ایسا مشکل کام نہیں۔آپ بھی ایسا ہی ایک بونسائی اپنے لاؤنج یا سونے کے کمرے کا حصہ بنا لیجئے۔ایلو ویرا کا پودا بھی پُرسکون نیند کا محرک ہو سکتا ہے۔
سونے کے کمرے میں DVD نہ رکھیں
دن بھر کے تھکے ماندے لوگ سونے کے کمروں میں پرانے کپڑے،اخبارات،رسالے یا DVD وغیرہ رکھے رہتے ہیں اور تو اور ٹی وی بند کیا مگر کنکشن نہیں نکالتے،موڈیم کو Off نہیں کرتے،کھڑکیاں بند کر کے پنکھا چلا کر سو جاتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی سے مرصع ماحول ہوتا ہے۔جو لوگ رات میں کم از کم سات یا آٹھ گھنٹے کی نیند نہیں لیتے ان کے دل کی صحت بہتر نہیں رہتی۔غذائی عادات میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے اور ہر قسم کے Clutter سے پاک کمرے میں سونا توانا بنا دیتا ہے۔بستر کی چادر،اوڑھنے والی چادر یا لحاف آرگینک کاٹن سے بنا ہو تو بہتر ہے۔سونے کے کمرے میں قد آدم آئینہ نہ لگوائیے یہ روشنی کا انعکاس کر کے آنکھوں پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

0 Comments